ہر مرتبہ جب آپ کا جٹ اسکی اپنے پیچھے سفید جھاگ کی لکیر چھوڑتا ہے تو یوں لگتا ہے جیسے دبئی مرینا کی بڑی کہانی میں ایک چھوٹی سی سطر اور کاٹی جا رہی ہو۔

دبئی مرینا بننے سے پہلے یہاں ریت، پانی اور چند سادہ سی کشتیوں کے سوا زیادہ کچھ نہیں تھا۔ شہر کا مرکز اندرونِ خشکی میں تھا اور سمندر کو بس ایک سرحد کی طرح دیکھا جاتا تھا، نہ کہ روزمرہ زندگی کے حصے کے طور پر۔
جب منصوبہ سازوں نے یہاں نہر کھود کر پانی کو ریت کے اندر بلانے کا سوچا، پھر اس کے دونوں جانب رہائشی ٹاورز، ہوٹل اور واک وے بنانے کا فیصلہ کیا، تو اس کے ساتھ ہی ایک نئی شہری کہانی نے جنم لیا۔ آج جب آپ اسی نہر کے بیچوں بیچ جٹ اسکی پر کھڑے ہوتے ہیں تو سوچ کر حیرت ہوتی ہے کہ کبھی یہاں صرف خاموش ساحل اور ہوا کی آواز ہوتی تھی۔

شروع میں مرینا زیادہ تر شام کی واک، کافی اور یاختوں کو دور سے دیکھنے کی جگہ تھی۔ جیسے جیسے آبادی اور ہوٹل بڑھے، پانی کے اوپر سرگرمیوں کی مانگ بھی سامنے آنے لگی۔ پہلے ڈنر کروز، پھر گلاس بوٹس، پھر کایاک اور اسٹینڈ اَپ پیڈل بورڈز – اور آخر کار جٹ اسکی نے آ کر رفتار کا عنصر بھی شامل کر دیا۔
جٹ اسکی نے نہر کو محض ایک خوبصورت عکس سے زیادہ بنا دیا۔ اب یہ وہ جگہ تھی جہاں لوگ خود مرکز میں آ کر کھڑے ہو سکتے تھے، اپنے ہاتھ سے موڑ کاٹ سکتے تھے اور شہر کو اس زاویے سے دیکھ سکتے تھے جو صرف پانی پر موجود لوگوں کے لئے مخصوص ہے۔

کسی ٹاور کی چھت سے دبئی مرینا کو دیکھیں تو ہر چیز سکون سے لگی رہتی ہے: سیدھی سڑکیں، قطار میں کھڑیاں عمارتیں، بندرگاہ میں خاموشی سے جھولتی یاختیں۔ لیکن جب آپ اسی منظر میں پانی کی سطح پر آ جاتے ہیں تو آوازیں، زاویے اور رفتار سب بدل جاتے ہیں – شہر آپ کے ارد گرد حرکت کرنا شروع کر دیتا ہے۔
جٹ اسکی دراصل اس جگہ کو بناتا ہے جہاں مسافر اور شہر برابر کی سطح پر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ نہ آپ اوپر سے نیچے دیکھ رہے ہوتے ہیں، نہ صرف نیچے سے عمارتوں کو سر اٹھا کر دیکھ رہے ہوتے ہیں، بلکہ آپ پانی کے بیچ میں ہیں اور شہر آپ کے دائیں بائیں سے گزرتا رہتا ہے۔

باہر سے دیکھنے والے کو لگ سکتا ہے کہ لوگ بس سیدھا پانی پر نکل جاتے ہیں، مگر ہر ٹور کے پیچھے روزانہ کی ایک لمبی تیاری ہوتی ہے۔ مشینوں کی چیکنگ، فیول، لائف جیکٹس کی حالت، موسم اور ہوا کی سمت کا اندازہ، پورٹ اتھارٹی کی ہدایات – یہ سب وہ چیزیں ہیں جو مسافر کی نظر سے عموماً اوجھل رہتی ہیں۔
اسی طرح دوریاں، رفتار کی حد، گروپ کو ایک لائن میں رکھنے یا فاصلے سے چلانے کے اصول بھی تجربے سے سیکھے گئے ہیں۔ جب آپ ان اصولوں کی عزت کرتے ہیں تو آپ کے پاس وہ آزادی بچ جاتی ہے جس کا آپ لطف اٹھانا چاہتے ہیں: ہوا میں نمکین خوشبو، موٹر کی گونج اور پانی پر اپنی لکیر کھینچنے کا احساس۔

Palm Jumeirah کو جب آپ نقشے میں دیکھتے ہیں تو وہ بس ایک ڈرائنگ طرز کا ڈیزائن لگتا ہے، مگر پانی سے قریب جا کر معلوم ہوتا ہے کہ یہ دراصل ساحلوں، ہوٹلوں اور حفاظتی دیواروں کا پورا نظام ہے۔ اسی طرح Atlantis ہوٹل جب جٹ اسکی سے سامنے آتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ سمندر کے اوپر کھلی ہوئی ایک بہت بڑی دروازہ نما محراب ہو۔
Burj Al Arab کو بھی بہت سے لوگ ہوٹلوں کی ونڈوز یا ساحل سے دیکھتے ہیں، مگر جب وہ افق پر آپ کے سامنے پانی کے اوپر تیرتا ہوا نظر آتا ہے تو اس کا مفہوم کچھ اور ہو جاتا ہے – اب وہ صرف پوسٹ کارڈ کا حصہ نہیں بلکہ آپ کے اپنے سفر کی تصویر کا ایک جزو بن جاتا ہے۔

کچھ ٹورز بہت مختصر ہوتے ہیں، جو زیادہ تر مرینا کے اندر یا اس کے بالکل قریب رہتے ہیں – یہ ان لوگوں کے لئے اچھے ہیں جو پہلی بار جٹ اسکی آزما رہے ہیں۔ درمیانی لمبائی کے ٹور Palm Jumeirah کے گرد تک پہنچ جاتے ہیں، جبکہ سب سے لمبے روٹس ساحل کے ساتھ ساتھ دور تک جاتے ہیں اور وقت، برداشت اور اعتماد تینوں کا امتحان لیتے ہیں۔
ہر پیکج کے پیچھے ایک مختلف کہانی لکھی ہوتی ہے: کوئی صرف رفتار پر زور دیتا ہے، کوئی مناظر اور فوٹو پوائنٹس پر، اور کوئی دونوں کے توازن پر۔ اس لئے چند منٹ نکال کر تفصیل پڑھنا دراصل یہ طے کرنا ہے کہ آپ اپنے دن میں کس طرح کا باب شامل کرنا چاہتے ہیں۔

کہانی کا پہلا حصہ اس وقت شروع ہو جاتا ہے جب آپ آن لائن بکنگ کرتے ہیں: تاریخ، وقت اور لوگوں کی تعداد منتخب کرتے ہیں، کنفرمیشن ای میل آتی ہے اور آپ کے ذہن میں پہلے سے ایک چھوٹی سی تصویر بننے لگتی ہے۔ پھر روانگی سے ایک رات پہلے آپ موسم دیکھتے ہیں، کپڑے تیار رکھتے ہیں اور شاید تھوڑا سا جوش بھی بڑھنے لگتا ہے۔
جس دن آپ جاتے ہیں، اصل چیلنج یہی ہوتا ہے کہ خود کو جلدی کے دباؤ سے بچائیں۔ اگر آپ تھوڑا پہلے پہنچ جاتے ہیں، سکون سے فارم بھرتے ہیں، ہدایات سنتے ہیں اور پانی کے قریب چند منٹ خاموشی سے کھڑے رہتے ہیں تو جب آپ جٹ اسکی پر قدم رکھتے ہیں تو ذہن پہلے سے کہیں زیادہ تیار ہوتا ہے۔

گزشتہ برسوں میں دبئی مرینا میں فٹ پاتھ، ریمپس، لفٹس اور روشنی کے نظام کو بہتر کیا گیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ، بشمول بزرگ اور محدود حرکت رکھنے والے افراد، بہ آسانی پانی کے قریب آ سکیں۔
اگر آپ یا آپ کے ساتھ کوئی ایسا شخص ہو جسے خاص مدد درکار ہو، تو بہتر ہے کہ بکنگ سے پہلے کمپنی کو اپنی صورتحال سے آگاہ کر دیں۔ اکثر وہ وقت، سازوسامان یا سوار ہونے کے طریقہ کار میں چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں کر کے تجربہ کو زیادہ محفوظ اور آرام دہ بنا سکتے ہیں۔

ہر دن صرف ٹورسٹ ٹورز کے لئے نہیں ہوتا۔ سال کے کچھ حصوں میں یہی پانی پروفیشنل ریسز، فری اسٹائل شوز اور واٹر اسپورٹس فیسٹیولز کی میزبانی بھی کرتا ہے۔ ان دنوں مرینا کا شور، موسیقی اور تالیاں اس پورے علاقے کو کسی چھوٹے جشن میں بدل دیتی ہیں۔
چاہے آپ محض تماشائی ہوں، صرف وہاں کھڑے ہو کر یہ سب دیکھنا بھی دبئی کی ایک الگ پرت دکھاتا ہے – ایسی پرت جہاں شہر صرف خریداری اور ہوٹلوں سے نہیں بلکہ پانی اور سپورٹس سے بھی اپنی شناخت بناتا ہے۔

پہلی نظر میں ساری فہرست کچھ الجھن پیدا کر سکتی ہے: اتنے منٹ، اتنا فاصلہ، یہ روٹ، وہ روٹ، فوٹو شامل یا نہیں، وغیرہ۔ مگر اگر آپ اس سب کو تین سادہ سوالوں میں توڑ دیں – کتنا وقت، کتنی قیمت اور کتنی جگہ دیکھنی ہے – تو فیصلہ آسان ہونے لگتا ہے۔
اگر آپ بس یہ جاننا چاہتے ہیں کہ جٹ اسکی کیسی لگتی ہے تو چھوٹا پیکج کافی ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ دبئی کی اسکائی لائن، پام اور سمندر سب ایک ہی باب میں سما جائیں تو پھر نسبتاً لمبے روٹ پر سرمایہ کاری ہی اصل فائدہ مند فیصلہ ثابت ہوتی ہے۔

شاید پہلی نظر میں Dubai Marina صرف کنکریٹ، شیشے اور روشنیوں کا نام لگے، مگر پانی کے اندر زندگی خاموشی سے چل رہی ہوتی ہے: چھوٹی مچھلیاں، سمندری پودے اور ایسے پرندے جو لمحہ بھر کے لئے پانی کی سطح توڑ کر خوراک لینے آتے ہیں۔
جب آپ رفتار کی حدود کا احترام کرتے ہیں، کچرا پانی میں نہیں پھینکتے اور متعین راستوں پر رہتے ہیں تو آپ صرف اپنے دن کو محفوظ نہیں بناتے بلکہ اس پورے نظام کو بھی تھوڑا سا محفوظ رکھتے ہیں – تاکہ آنے والے برسوں میں بھی لوگ اسی طرح ان مناظر سے لطف اٹھا سکیں۔

رائیڈ ختم ہونے کے بعد اکثر لوگ سیدھا ہوٹل واپس جانے کے بجائے مرینا ہی میں کچھ وقت گزارتے ہیں۔ کوئی پانی کے کنارے بیٹھ کر کافی پیتا ہے، کوئی مال میں شاپنگ کرتا ہے اور کوئی صرف واک وے پر چلتے ہوئے دن کے مناظر کو دوبارہ ذہن میں دہراتا ہے۔
شام ڈھلتے ہی جب ٹاورز کی روشنی پانی میں جھلکتی ہے تو وہی جگہ جو دن میں ایک کھیل کے میدان کی طرح لگ رہی تھی، اب ایک خاموش مگر روشن منظر بن جاتی ہے۔ یہ تبدیلی خود اس دن کی کہانی میں ایک خوبصورت اختتام کا کام دیتی ہے۔

دنیا میں بہت سی جگہیں ہیں جہاں آپ جٹ اسکی کر سکتے ہیں، لیکن وہ بہت کم شہر ہیں جہاں چند منٹ کے اندر اندر آپ کو صحرا، الٹرا ماڈرن عمارتیں اور گرم سمندر ایک ساتھ مل جاتے ہیں۔ دبئی مرینا اس امتزاج کو بہت مختصر فاصلے میں سمیٹ دیتی ہے، اسی لئے یہاں کی ہر رائیڈ ایک جامع تصویر بن جاتی ہے۔
جب آپ گھر واپس جا کر اپنے سفر کے بارے میں بتائیں گے تو شاید آپ مالز، برج خلیفہ یا دیگر مشہور مقامات کا ذکر بھی کریں گے، مگر وہ جملہ جس میں آپ کہیں گے کہ ‘میں نے دبئی کی اسکائی لائن کے ساتھ جٹ اسکی چلائی’، اکثر سب سے زیادہ چمکتا ہوا حصہ بن جاتا ہے۔

دبئی مرینا بننے سے پہلے یہاں ریت، پانی اور چند سادہ سی کشتیوں کے سوا زیادہ کچھ نہیں تھا۔ شہر کا مرکز اندرونِ خشکی میں تھا اور سمندر کو بس ایک سرحد کی طرح دیکھا جاتا تھا، نہ کہ روزمرہ زندگی کے حصے کے طور پر۔
جب منصوبہ سازوں نے یہاں نہر کھود کر پانی کو ریت کے اندر بلانے کا سوچا، پھر اس کے دونوں جانب رہائشی ٹاورز، ہوٹل اور واک وے بنانے کا فیصلہ کیا، تو اس کے ساتھ ہی ایک نئی شہری کہانی نے جنم لیا۔ آج جب آپ اسی نہر کے بیچوں بیچ جٹ اسکی پر کھڑے ہوتے ہیں تو سوچ کر حیرت ہوتی ہے کہ کبھی یہاں صرف خاموش ساحل اور ہوا کی آواز ہوتی تھی۔

شروع میں مرینا زیادہ تر شام کی واک، کافی اور یاختوں کو دور سے دیکھنے کی جگہ تھی۔ جیسے جیسے آبادی اور ہوٹل بڑھے، پانی کے اوپر سرگرمیوں کی مانگ بھی سامنے آنے لگی۔ پہلے ڈنر کروز، پھر گلاس بوٹس، پھر کایاک اور اسٹینڈ اَپ پیڈل بورڈز – اور آخر کار جٹ اسکی نے آ کر رفتار کا عنصر بھی شامل کر دیا۔
جٹ اسکی نے نہر کو محض ایک خوبصورت عکس سے زیادہ بنا دیا۔ اب یہ وہ جگہ تھی جہاں لوگ خود مرکز میں آ کر کھڑے ہو سکتے تھے، اپنے ہاتھ سے موڑ کاٹ سکتے تھے اور شہر کو اس زاویے سے دیکھ سکتے تھے جو صرف پانی پر موجود لوگوں کے لئے مخصوص ہے۔

کسی ٹاور کی چھت سے دبئی مرینا کو دیکھیں تو ہر چیز سکون سے لگی رہتی ہے: سیدھی سڑکیں، قطار میں کھڑیاں عمارتیں، بندرگاہ میں خاموشی سے جھولتی یاختیں۔ لیکن جب آپ اسی منظر میں پانی کی سطح پر آ جاتے ہیں تو آوازیں، زاویے اور رفتار سب بدل جاتے ہیں – شہر آپ کے ارد گرد حرکت کرنا شروع کر دیتا ہے۔
جٹ اسکی دراصل اس جگہ کو بناتا ہے جہاں مسافر اور شہر برابر کی سطح پر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ نہ آپ اوپر سے نیچے دیکھ رہے ہوتے ہیں، نہ صرف نیچے سے عمارتوں کو سر اٹھا کر دیکھ رہے ہوتے ہیں، بلکہ آپ پانی کے بیچ میں ہیں اور شہر آپ کے دائیں بائیں سے گزرتا رہتا ہے۔

باہر سے دیکھنے والے کو لگ سکتا ہے کہ لوگ بس سیدھا پانی پر نکل جاتے ہیں، مگر ہر ٹور کے پیچھے روزانہ کی ایک لمبی تیاری ہوتی ہے۔ مشینوں کی چیکنگ، فیول، لائف جیکٹس کی حالت، موسم اور ہوا کی سمت کا اندازہ، پورٹ اتھارٹی کی ہدایات – یہ سب وہ چیزیں ہیں جو مسافر کی نظر سے عموماً اوجھل رہتی ہیں۔
اسی طرح دوریاں، رفتار کی حد، گروپ کو ایک لائن میں رکھنے یا فاصلے سے چلانے کے اصول بھی تجربے سے سیکھے گئے ہیں۔ جب آپ ان اصولوں کی عزت کرتے ہیں تو آپ کے پاس وہ آزادی بچ جاتی ہے جس کا آپ لطف اٹھانا چاہتے ہیں: ہوا میں نمکین خوشبو، موٹر کی گونج اور پانی پر اپنی لکیر کھینچنے کا احساس۔

Palm Jumeirah کو جب آپ نقشے میں دیکھتے ہیں تو وہ بس ایک ڈرائنگ طرز کا ڈیزائن لگتا ہے، مگر پانی سے قریب جا کر معلوم ہوتا ہے کہ یہ دراصل ساحلوں، ہوٹلوں اور حفاظتی دیواروں کا پورا نظام ہے۔ اسی طرح Atlantis ہوٹل جب جٹ اسکی سے سامنے آتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ سمندر کے اوپر کھلی ہوئی ایک بہت بڑی دروازہ نما محراب ہو۔
Burj Al Arab کو بھی بہت سے لوگ ہوٹلوں کی ونڈوز یا ساحل سے دیکھتے ہیں، مگر جب وہ افق پر آپ کے سامنے پانی کے اوپر تیرتا ہوا نظر آتا ہے تو اس کا مفہوم کچھ اور ہو جاتا ہے – اب وہ صرف پوسٹ کارڈ کا حصہ نہیں بلکہ آپ کے اپنے سفر کی تصویر کا ایک جزو بن جاتا ہے۔

کچھ ٹورز بہت مختصر ہوتے ہیں، جو زیادہ تر مرینا کے اندر یا اس کے بالکل قریب رہتے ہیں – یہ ان لوگوں کے لئے اچھے ہیں جو پہلی بار جٹ اسکی آزما رہے ہیں۔ درمیانی لمبائی کے ٹور Palm Jumeirah کے گرد تک پہنچ جاتے ہیں، جبکہ سب سے لمبے روٹس ساحل کے ساتھ ساتھ دور تک جاتے ہیں اور وقت، برداشت اور اعتماد تینوں کا امتحان لیتے ہیں۔
ہر پیکج کے پیچھے ایک مختلف کہانی لکھی ہوتی ہے: کوئی صرف رفتار پر زور دیتا ہے، کوئی مناظر اور فوٹو پوائنٹس پر، اور کوئی دونوں کے توازن پر۔ اس لئے چند منٹ نکال کر تفصیل پڑھنا دراصل یہ طے کرنا ہے کہ آپ اپنے دن میں کس طرح کا باب شامل کرنا چاہتے ہیں۔

کہانی کا پہلا حصہ اس وقت شروع ہو جاتا ہے جب آپ آن لائن بکنگ کرتے ہیں: تاریخ، وقت اور لوگوں کی تعداد منتخب کرتے ہیں، کنفرمیشن ای میل آتی ہے اور آپ کے ذہن میں پہلے سے ایک چھوٹی سی تصویر بننے لگتی ہے۔ پھر روانگی سے ایک رات پہلے آپ موسم دیکھتے ہیں، کپڑے تیار رکھتے ہیں اور شاید تھوڑا سا جوش بھی بڑھنے لگتا ہے۔
جس دن آپ جاتے ہیں، اصل چیلنج یہی ہوتا ہے کہ خود کو جلدی کے دباؤ سے بچائیں۔ اگر آپ تھوڑا پہلے پہنچ جاتے ہیں، سکون سے فارم بھرتے ہیں، ہدایات سنتے ہیں اور پانی کے قریب چند منٹ خاموشی سے کھڑے رہتے ہیں تو جب آپ جٹ اسکی پر قدم رکھتے ہیں تو ذہن پہلے سے کہیں زیادہ تیار ہوتا ہے۔

گزشتہ برسوں میں دبئی مرینا میں فٹ پاتھ، ریمپس، لفٹس اور روشنی کے نظام کو بہتر کیا گیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ، بشمول بزرگ اور محدود حرکت رکھنے والے افراد، بہ آسانی پانی کے قریب آ سکیں۔
اگر آپ یا آپ کے ساتھ کوئی ایسا شخص ہو جسے خاص مدد درکار ہو، تو بہتر ہے کہ بکنگ سے پہلے کمپنی کو اپنی صورتحال سے آگاہ کر دیں۔ اکثر وہ وقت، سازوسامان یا سوار ہونے کے طریقہ کار میں چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں کر کے تجربہ کو زیادہ محفوظ اور آرام دہ بنا سکتے ہیں۔

ہر دن صرف ٹورسٹ ٹورز کے لئے نہیں ہوتا۔ سال کے کچھ حصوں میں یہی پانی پروفیشنل ریسز، فری اسٹائل شوز اور واٹر اسپورٹس فیسٹیولز کی میزبانی بھی کرتا ہے۔ ان دنوں مرینا کا شور، موسیقی اور تالیاں اس پورے علاقے کو کسی چھوٹے جشن میں بدل دیتی ہیں۔
چاہے آپ محض تماشائی ہوں، صرف وہاں کھڑے ہو کر یہ سب دیکھنا بھی دبئی کی ایک الگ پرت دکھاتا ہے – ایسی پرت جہاں شہر صرف خریداری اور ہوٹلوں سے نہیں بلکہ پانی اور سپورٹس سے بھی اپنی شناخت بناتا ہے۔

پہلی نظر میں ساری فہرست کچھ الجھن پیدا کر سکتی ہے: اتنے منٹ، اتنا فاصلہ، یہ روٹ، وہ روٹ، فوٹو شامل یا نہیں، وغیرہ۔ مگر اگر آپ اس سب کو تین سادہ سوالوں میں توڑ دیں – کتنا وقت، کتنی قیمت اور کتنی جگہ دیکھنی ہے – تو فیصلہ آسان ہونے لگتا ہے۔
اگر آپ بس یہ جاننا چاہتے ہیں کہ جٹ اسکی کیسی لگتی ہے تو چھوٹا پیکج کافی ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ دبئی کی اسکائی لائن، پام اور سمندر سب ایک ہی باب میں سما جائیں تو پھر نسبتاً لمبے روٹ پر سرمایہ کاری ہی اصل فائدہ مند فیصلہ ثابت ہوتی ہے۔

شاید پہلی نظر میں Dubai Marina صرف کنکریٹ، شیشے اور روشنیوں کا نام لگے، مگر پانی کے اندر زندگی خاموشی سے چل رہی ہوتی ہے: چھوٹی مچھلیاں، سمندری پودے اور ایسے پرندے جو لمحہ بھر کے لئے پانی کی سطح توڑ کر خوراک لینے آتے ہیں۔
جب آپ رفتار کی حدود کا احترام کرتے ہیں، کچرا پانی میں نہیں پھینکتے اور متعین راستوں پر رہتے ہیں تو آپ صرف اپنے دن کو محفوظ نہیں بناتے بلکہ اس پورے نظام کو بھی تھوڑا سا محفوظ رکھتے ہیں – تاکہ آنے والے برسوں میں بھی لوگ اسی طرح ان مناظر سے لطف اٹھا سکیں۔

رائیڈ ختم ہونے کے بعد اکثر لوگ سیدھا ہوٹل واپس جانے کے بجائے مرینا ہی میں کچھ وقت گزارتے ہیں۔ کوئی پانی کے کنارے بیٹھ کر کافی پیتا ہے، کوئی مال میں شاپنگ کرتا ہے اور کوئی صرف واک وے پر چلتے ہوئے دن کے مناظر کو دوبارہ ذہن میں دہراتا ہے۔
شام ڈھلتے ہی جب ٹاورز کی روشنی پانی میں جھلکتی ہے تو وہی جگہ جو دن میں ایک کھیل کے میدان کی طرح لگ رہی تھی، اب ایک خاموش مگر روشن منظر بن جاتی ہے۔ یہ تبدیلی خود اس دن کی کہانی میں ایک خوبصورت اختتام کا کام دیتی ہے۔

دنیا میں بہت سی جگہیں ہیں جہاں آپ جٹ اسکی کر سکتے ہیں، لیکن وہ بہت کم شہر ہیں جہاں چند منٹ کے اندر اندر آپ کو صحرا، الٹرا ماڈرن عمارتیں اور گرم سمندر ایک ساتھ مل جاتے ہیں۔ دبئی مرینا اس امتزاج کو بہت مختصر فاصلے میں سمیٹ دیتی ہے، اسی لئے یہاں کی ہر رائیڈ ایک جامع تصویر بن جاتی ہے۔
جب آپ گھر واپس جا کر اپنے سفر کے بارے میں بتائیں گے تو شاید آپ مالز، برج خلیفہ یا دیگر مشہور مقامات کا ذکر بھی کریں گے، مگر وہ جملہ جس میں آپ کہیں گے کہ ‘میں نے دبئی کی اسکائی لائن کے ساتھ جٹ اسکی چلائی’، اکثر سب سے زیادہ چمکتا ہوا حصہ بن جاتا ہے۔